Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے ہمسایہ ممالک: زمینی سرحدیں اور سمندر
Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی زمینی سرحدیں تین ممالک سے ملتی ہیں: چین، روس اور جنوبی کوریا۔ اس کی شمالی سرحدیں دریائی راستوں کے ساتھ چلتی ہیں، جبکہ جنوبی سرحد کوریائی غیر فوجی علاقے سے وابستہ ہے۔ قریبی سمندر اسے جاپان سمیت دیگر ممالک سے بحری فاصلوں کے پار رکھتے ہیں، لیکن اس سے زمینی ہمسایوں کی فہرست میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یہاں ہر سرحد کا محلِ وقوع اور زمینی سرحدوں کو قریبی سمندروں سے الگ پہچاننے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی سرحدیں کن ممالک سے ملتی ہیں؟
Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی سرحدیں ملتی ہیں شمال اور شمال مغرب میں چین سے، شمال مشرق میں روس سے، اور جنوب میں جنوبی کوریا سے۔ یہی وہ تین ممالک ہیں جن کی اس کے ساتھ مشترکہ زمینی سرحد ہے۔ بریٹانیکا مغرب میں زرد سمندر اور مشرق میں جاپان کے سمندر کا بھی ذکر کرتا ہے؛ یہ ساحلی پانی ہیں، اضافی ملکی سرحدیں نہیں۔
حوالہ جاتی کتب چین کے ساتھ سرحد کی لمبائی تقریباً 1,416 کلومیٹر (880 میل)، جنوبی کوریا کے ساتھ 238 کلومیٹر (148 میل)، اور روس کے ساتھ 19 کلومیٹر (12 میل بتاتی ہیں۔ یہ اعداد ماخذ کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں درست پیمائش کے بجائے تخمینے سمجھنا بہتر ہے۔ انسائیکلوپیڈیا ڈاٹ کام یہ اعداد اور مجموعی زمینی سرحد کی تقریباً 1,673 کلومیٹر (1,040 میل) لمبائی بیان کرتا ہے۔ سرحد کی پیمائش کے طریقے کے لحاظ سے حوالہ جاتی ذرائع میں مجموعی اعداد مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کا وسیع تقابل کے طور پر استعمال زیادہ مفید ہے: چین کے ساتھ زمینی سرحد سب سے طویل ہے، جبکہ روس کے ساتھ سرحد بہت مختصر ہے۔
علاقائی نقشے میں یہ ترتیب واضح ہے: چین اور روس شمالی جانب Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên سے ملتے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا اسی جزیرہ نما پر اس کے عین جنوب میں واقع ہے۔ اسی شمال تا جنوب ترتیب کے باعث مختصر فہرست میں صرف دو ممالک کا ذکر ہو سکتا ہے، اگر بات صرف شمالی ہمسایوں کی ہو؛ جنوبی زمینی سرحد کو شامل کریں تو مکمل تعداد تین بنتی ہے۔
Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے تین زمینی ہمسایہ ممالک
جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے میں واقع ہونے کے باعث Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے دو شمالی اور ایک جنوبی ہمسایہ ملک ہیں۔ شمالی سرحد کا بیشتر حصہ دریاؤں سے پہچانا جا سکتا ہے؛ جنوبی سرحد ایک بفر زون کے اندر حد بندی کی لکیر سے متعین ہوتی ہے۔ قدرتی جغرافیائی خصوصیات اور سیاسی سرحد مقام کی شناخت میں مدد دیتی ہیں، لیکن یہ ایک ہی نوعیت کے نشانات نہیں ہیں: شمال میں دریا ایک نمایاں راستہ دکھاتے ہیں، جبکہ جنوبی تقسیم حد بندی کی لکیر سے متعین ہوتی ہے۔
چین
چین Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کا سب سے طویل زمینی سرحد رکھنے والا ہمسایہ ہے، اور یہ سرحد ملک کے شمال اور شمال مغرب کے ساتھ چلتی ہے۔ مغربی حصے کا بیشتر حصہ دریائے یالو کے ساتھ ہے، جسے اس کے کوریائی نام دریائے امنوک سے بھی جانا جاتا ہے۔ جیسا کہ بریٹانیکابیان کرتا ہے، یہ دریا Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên اور چین کے درمیان سرحد کا ایک حصہ بناتا ہے۔
مزید مشرق میں سرحد دریائے تومن سے وابستہ ہے۔ دریائے یالو (امنوک) اور دریائے تومن کے راستے، مل کر چین اور Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی سرحد کو سمجھنے کے لیے مفید جغرافیائی نشانات ہیں۔ ان کے نام ایک دوسرے کے متبادل نہیں: یالو اور امنوک ایک ہی دریا کے نام ہیں، جبکہ تومن اس سے الگ دریا ہے جو مزید مشرق میں واقع ہے۔ سرحد کی تخمینی لمبائی حوالہ اور پیمائش کے طریقے کے لحاظ سے بدلتی ہے، اس لیے کسی ایک قدر کو قطعی سمجھنے کے بجائے گول عدد دینا زیادہ مناسب ہے۔
نقشہ پڑھتے وقت بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں دریاؤں کے نام شمالی سرحد کے مختلف حصوں کی سمت بتاتے ہیں: یالو مغربی جانب ہے، جبکہ تومن مزید مشرق میں واقع ہے۔ انہیں ایک ہی مسلسل دریا کے دو نام نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان دریاؤں کا نام لینے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بین الاقوامی سرحد کے ہر حصے کو لازماً کسی ایک دریا کے نشان سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
روس
روس شمال مشرق میں Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے ساتھ زمینی سرحد رکھتا ہے۔ یہ Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی مجموعی زمینی سرحد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، لیکن روس پھر بھی اس کے تین زمینی ہمسایوں میں سے ایک ہے۔ یہ سرحد دریائے تومن کے زیریں حصے کے قریب واقع ہے، جہاں Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên، چین اور روس کی سرحدیں ملتی ہیں۔
کچھ حوالہ جاتی ذرائع روس اور Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی سرحد کی لمبائی تقریباً 19 کلومیٹر (12 میل) بتاتے ہیں۔ اس کی مختصر لمبائی کے باعث نقشے میں روس کو نظرانداز کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس سے Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên سے متصل ملک کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ شمال مشرقی سرحدی علاقے کا محلِ وقوع سمجھنے کے لیے دریائے تومن بنیادی جغرافیائی نشان ہے۔
یہ دریا خطے کی ترتیب سمجھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن دریا کی سرحد کے وجود کو اس دعوے سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے کہ لوگ یا سامان اسے کیسے عبور کرتے ہیں۔ جغرافیائی جواب کے لیے اہم حقائق یہ ہیں کہ سرحد شمال مشرق میں واقع ہے، دوسری سرحدوں کے مقابلے میں مختصر ہے، اور روس تین زمینی ہمسایہ ممالک میں شامل ہے۔
جنوبی کوریا
جنوب میں جنوبی کوریا کی سرحد Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên سے ملتی ہے۔ ان دونوں کی سرحد فوجی حد بندی کی لکیر سے وابستہ ہے، جو کوریائی غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) کے اندر واقع ہے۔ یہ لکیر دونوں جانب کے درمیان تقسیم کو نشان زد کرتی ہے؛ غیر فوجی علاقہ اس کے گرد وسیع بفر خطہ ہے، خود سرحدی لکیر نہیں۔
غیر فوجی علاقہ تقریباً 38 درجے شمالی عرض البلد کے ساتھ چلتا ہے، لیکن موجودہ سرحد کو محض 38ویں متوازی لکیر کہنا درست نہیں۔ 38ویں متوازی لکیر پہلے کی تقسیم کی لکیر تھی، جبکہ موجودہ حد بندی فوجی حد بندی کی لکیر سے وابستہ ہے۔ بریٹانیکا غیر فوجی علاقے کو Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên اور جنوبی کوریا کو جدا کرنے والا خطہ قرار دیتا ہے۔ نقشے پر یہ فرق واضح کرتا ہے کہ سرحد کو صرف 38ویں متوازی لکیر کے بجائے ایک خطے کے حوالے سے کیوں دکھایا جاتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں، غیر فوجی علاقہ نقشے پر ایک خطہ ہے، جبکہ فوجی حد بندی کی لکیر تقسیم سے وابستہ لکیر ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کا اکثر ایک ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہیں۔ یہ فرق ایک عام اختصار سے بھی بچاتا ہے: 38ویں متوازی لکیر تاریخی اور تخمینی جغرافیائی پس منظر تو فراہم کرتی ہے، لیکن موجودہ سرحد کے پورے راستے کی درست وضاحت نہیں کرتی۔
سمندری ہمسائے اور قریبی سمندر
Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے مغربی اور مشرقی ساحلوں کے سامنے مختلف آبی خطے واقع ہیں۔ یہ سمندر اہم جغرافیائی نشانات ہیں، لیکن سمندر پار واقع کوئی ملک زمینی سرحد رکھنے والا ہمسایہ نہیں ہوتا۔ دونوں زمروں کو الگ رکھنے سے سوال کے دونوں مفہوم واضح ہو جاتے ہیں: زمینی سرحدوں کی فہرست میں تین ممالک ہیں، جبکہ وسیع تر علاقائی نقشے میں ایسے مقامات بھی شامل ہیں جنہیں Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên سے پانی جدا کرتا ہے۔
زمینی ہمسایوں اور سمندری ہمسایوں میں فرق
Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے ساتھ زمینی سرحد رکھنے والے تین ممالک چین، روس اور جنوبی کوریا ہیں۔ جاپان قریب ہی سمندر پار واقع ہے، لیکن اس کی Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے ساتھ زمینی سرحد نہیں ملتی۔ Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے «ہمسایہ ممالک» سے متعلق سوالوں میں یہ فرق اہم ہے: جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ سوال مشترکہ زمینی سرحد والے ممالک کے بارے میں ہے یا وسیع تر آس پاس کے خطے کے ممالک کے بارے میں۔
مغرب میں Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے سامنے زرد سمندر ہے، جسے بعض استعمالات میں خلیج کوریا بھی کہا جاتا ہے۔ مشرق میں اس کے ساحل کے سامنے جاپان کا سمندر ہے، جسے کوریا میں مشرقی سمندر کہا جاتا ہے۔ یہ نام جزیرہ نما کے دونوں جانب واقع پانیوں کی شناخت کرتے ہیں؛ ان سے Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی زمینی سرحدیں رکھنے والے ممالک تبدیل نہیں ہوتے۔ ملکوں کے مطالعات مغربی اور مشرقی ساحلی سمندروں اور ان کے متبادل ناموں کا ذکر کرتا ہے۔
سمندر سے قربت، مشترکہ سرحد سے زیادہ وسیع جغرافیائی تصور ہے۔ نقشے پر ایک ہی آبی خطے کے گرد واقع ممالک قریب دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن زرد سمندر یا جاپان کے سمندر کے پار قربت سے زمینی سرحد قائم نہیں ہوتی۔ «Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی سرحدیں کن ممالک سے ملتی ہیں؟» کا مختصر جواب دیتے وقت صرف چین، روس اور جنوبی کوریا کو شمار کریں؛ جاپان کا ذکر صرف سمندر پار قریبی ممالک کی بات کرتے وقت کریں۔
مختصراً، Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کے تین زمینی ہمسایہ ممالک—چین، روس اور جنوبی کوریا—ہیں، اور اس کے قریبی بحری جغرافیے میں مغرب میں زرد سمندر یا خلیج کوریا، اور مشرق میں جاپان کا سمندر یا مشرقی سمندر شامل ہیں۔ زمینی سرحدوں کو سمندری قربت سے الگ رکھنے سے Cộng hòa Dân chủ Nhân dân Triều Tiên کی سرحدوں سے متعلق سوال کا سب سے واضح جواب ملتا ہے۔
علاقہ منتخب کریں
ایک پوسٹ بنائیں
پوسٹنگ مفت ہے اور کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔